منگل , جولائی 17 2018
صفحہ اول / تازہ ترین / سانحہ پشاور، پاک فوج نےرہائشی کالونیوں کے بجائےملکی دفاع کو پہلی ترجیح بنانے کا فیصلہ کرلیا

سانحہ پشاور، پاک فوج نےرہائشی کالونیوں کے بجائےملکی دفاع کو پہلی ترجیح بنانے کا فیصلہ کرلیا

 آبپارے والی سرکار، روالپنڈی نمایندہ بوریت۔

سقوط ڈھاکہ کی برسی کے موقع پر ہونے والے اندوہناک سانحہ پشاور پر پاک فوج نے اپنی پہلی ترجیح ملکی دفاع کو قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ پاک فوج کے ترجمان میجر باجوہ نے وقار کو داو پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جس جذبے اور ہمّت سے ہم رہائشی کالونیز بناتے ہیں اسی جذبے سے پاکستان کی حفاظت بھی کریں تو ایسے واقعات قطعی نا ہوں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں ہماری ناک کے نیچے ہونے والے حملے میں اپنے بچوں کی حفاظت نا کرپانے پر ہم بے حد شرمندہ ہیں ۔

large-Pakistani Army officers lay down their arms in December 1971 during a surrender ceremony on the golf course of the Dhaka Military Cantonment

بھاری بوٹوں والی سرکار نے اپنے بیان میں کہا کہ چاہے ایبٹ آباد میں امریکہ ہماری بغل سے بن لادن کو برامد کرلے، مہران بیس ہو یا کراچی نیول بیس پر دہشت ، گردوں کے حملے ہوں،  راولپنڈی میں آرمی کے ہیڈ کوارٹر پردشمنوں کی یلغار ہو یا پی اے ایف کامرہ بیس پر حملہ، ہر مرتبہ قوم متحد ہوئئ ہے اور ہر مرتبہ  ہم نے بدلہ لینے کا مکمل تہیہ کیا ہے۔ آپ اس کا اندازہ بلوچستان میں ہونے والی تیسری عالمی جنگ میں پاک فوج کی فتح، بلوچ نوجوانوں کی ڈرل مشین سے سوراخ والی لاشوں اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی بے محابہ بمباری سے کرسکتے ہیں جس میں ہم وہ خاص بم استعمال کرتے ہیں جو صرف دہشت گردوں کو ہی جا کر لگتے ہیں، عام شہری عورتیں اور بچے بلکل محفوظ رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان واقعات کی آزادانہ رپورٹنگ نہیں ہوتی کیونکہ وہاں دیکھنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔

Dawn Rebuttal-page-001

انہوں نے کہا کہ چاہے جی ایچ کیو حملہ ہو، مہران نیول بیس پر حملہ، ہو پی اے ایف کامرہ پر حملہ ہو، کراچی ہوائی اڈے پر حملہ ہو ، لیکن فکر نہ کریں ہمارے پاس دنیا کی بہترین انٹلیجنس ایجنسی ہے۔

111-brigade

میجر جنرل باجوہ نے کہا کہ فوج نے اب اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن اس میں شائد تھوڑا وقت لگے۔ اصل میں ہماری ساری ٹاپ براس کارساز کے کاروباری لوگ ہیں پارک، شادی ہال ، بیکریاں، پیٹرول پمپ اور ناشتے کے سیریل بیچنے والے ہیں جو وزیر اعظم ہاؤس کے آہنی پھاٹک اور دیواریں پھاند کر ملک میں گیٹ کریش انٹری ڈالنے اور کھڑاک سے’عزیز ہموطنو اسلام علیکم.” کہنے کے عادی ہو چکے ہیں، اب انکے لئے دوبارہ وطن عزیز اور اسکے شہریوں کی حفاظت کی ٹریننگ لینا آسان کام نہیں۔

yahya-khan

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ اب وہ سمجھتے ہیں کہ بحریہ ٹاون اور ڈیفینس ہاوسنگ کے منافع بخش منصوبے لپیٹ دیے جائیں، عسکری بینک، فوجی فاونڈیشن، این-ایل-سی، بیکری وغیرہ پرائوٹ سیکٹر کو فروخت کردی جائیں، اوردفاعی بجٹ حلال کر کر ملک کے مفاد میں کام شروع کیا جائے تو بہت اچھا ہوگا ورنہ شائد بھولی عوام ہمیں بہت مارے گی یہ کہ کہ کر کہ

يہ فسانہ ہے پاسبانوں کا
چاق و چوبند نوجوانوں کا
سرحدوں کی نہ پاسبانی کی
ہم سے ہی داد لی جوانی کی

 تازہ ترین: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کا کورٹ مارشل کر دیا گیا ہے۔ انکی جگ ہڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس  کو واپس لا لیا گیا ہے

About adnan

One comment

  1. آئینہ دکھایا تو برا مان جائیں گے
    (دہشت گردی) کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے